حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ حَزْمِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ أَتَى مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِقَوْمٍ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاذُ " لَا تَكُنْ فَتَّانًا ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ وَالْمُسَافِرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ` وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے ، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے معاذ ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو ، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے ، کمزور ، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 791
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر بذكر المسافر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, طالب بن حبيب ضعيف ضعفه البخاري والجمھور, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3399) (منکر) » (اس حدیث میں مسافر کا تذکرہ منکر ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔`
حزم بن ابی بن کعب سے اس واقعہ کے سلسلہ میں روایت ہے کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ لوگوں کو مغرب پڑھا رہے تھے، اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے معاذ! لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالنے والے نہ بنو، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور، حاجت مند اور مسافر نماز پڑھتے ہیں۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 791]
791۔ اردو حاشیہ:
اس روایت میں صرف "مسافر" کا ذکر صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 791 سے ماخوذ ہے۔