سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ جَهَرَ بِهَا باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ السَّرْحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورَةِ حَتَّى تَنَزَّلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ السَّرْحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے ، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی ، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´«بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 788]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ کی حد و انتہا کو نہیں جان پاتے تھے، جب تک کہ «بسم الله الرحمن الرحيم» آپ پر نہ اتر جاتی، یہ ابن سرح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 788]
788۔ اردو حاشیہ:
اس مسئلہ میں کہ «بسم الله» جہراً پڑھا جائے یا سراً علامہ ابن القیم کی بات معتدل ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی جہراً پڑھتے تھے اور کبھی سراً، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو سراً پڑھنا زیادہ ثابت ہے، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روزانہ پانچ اوقات میں نیز سفر و حضر میں بھی جہراً پڑھتے رہے ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین پر مخفی رہا ہو۔ اور پھر آپ کے اہل شہر خیر القرون میں بھی اس سے بےخبر رہیں۔ یہ ازحد محال بات ہے۔ چہ جائے کہ «بسم الله» کے جہراً کو ثابت کرنے کے لئے مجمل الفاظ اور کمزور احادیث کا سہارا لیا جائے۔ اس بارے میں صحیح احادیث غیر صریح اور جو صریح ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔“ [ذاد المعاد فصل فى هديه صلى الله عليه وسلم فى الصلواة]
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: [نيل الاوطار و سبل السلام]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا موقف بھی «بسم الله» سری پڑھنے کا ہے۔ دیکھیے: [صفة الصلواة النبى صلي الله عليه وسلم ص 96]
اور یہی راحج ہے۔
اس مسئلہ میں کہ «بسم الله» جہراً پڑھا جائے یا سراً علامہ ابن القیم کی بات معتدل ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی جہراً پڑھتے تھے اور کبھی سراً، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو سراً پڑھنا زیادہ ثابت ہے، یہ ناممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روزانہ پانچ اوقات میں نیز سفر و حضر میں بھی جہراً پڑھتے رہے ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین پر مخفی رہا ہو۔ اور پھر آپ کے اہل شہر خیر القرون میں بھی اس سے بےخبر رہیں۔ یہ ازحد محال بات ہے۔ چہ جائے کہ «بسم الله» کے جہراً کو ثابت کرنے کے لئے مجمل الفاظ اور کمزور احادیث کا سہارا لیا جائے۔ اس بارے میں صحیح احادیث غیر صریح اور جو صریح ہیں وہ غیر صحیح ہیں۔“ [ذاد المعاد فصل فى هديه صلى الله عليه وسلم فى الصلواة]
مزید تفصیل کے لئے دیکھیے: [نيل الاوطار و سبل السلام]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا موقف بھی «بسم الله» سری پڑھنے کا ہے۔ دیکھیے: [صفة الصلواة النبى صلي الله عليه وسلم ص 96]
اور یہی راحج ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 788 سے ماخوذ ہے۔