سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَنْ جَهَرَ بِهَا باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 787
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، بِمَعْنَاهُ ، قَالَ فِيهِ : فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ الشَّعْبِيُّ ، وَأَبُو مَالِكٍ ، وَقَتَادَةُ ، وَثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حَتَّى نَزَلَتْ سُورَةُ النَّمْلِ هَذَا مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے ، اس میں ہے کہ` پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ، اور آپ نے ہم سے بیان نہیں کیا کہ سورۃ برات انفال میں سے ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعبی ، ابو مالک ، قتادہ اور ثابت بن عمارہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں لکھا یہاں تک کہ سورۃ النمل نازل ہوئی ، یہی اس کا مفہوم ہے ۔