سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " عَطَسَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَ مَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ الشَّابُّ ، ثُمَّ قَالَ : مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " .
´عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی ، تو اس نے کہا : «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» ” اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے ، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو ، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے “ ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” یہ کلمات کس نے کہے ؟ “ ، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں : نوجوان انصاری خاموش رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا : ” یہ کلمات کس نے کہے ؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا “ ، تب اس نوجوان نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ کلمات میں نے کہے ہیں ، میری نیت خیر ہی کی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے ( بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے ) “ ۔