سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً ، قَالَ عَمْرٌو : لَا أَدْرِي أَيَّ صَلَاةٍ هِيَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثًا ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ ، قَالَ : نَفْثُهُ الشِّعْرُ ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ " .
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ( عمرو کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون سی نماز تھی ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار فرمایا : «الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ” اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں اور میں صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں “ ، اور فرمایا : «أعوذ بالله من الشيطان من نفخه ونفثه وهمزه» ” میں شیطان کے کبر و غرور ، اس کے اشعار و جادو بیانی اور اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں “ ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں : اس کا «نفث» شعر ہے ، اس کا «نفخ» کبر ہے اور اس کا «همز» جنون یا موت ہے ۔