حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، وَابْنُ أَبِي فَرْوَةَ وغيرهما من فقهاء أهل المدينة فإذا قُلْتَ أَنْتَ ذَاكَ ، فَقُلْ : وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي قَوْلَهُ : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ` مجھ سے محمد بن منکدر ، ابن ابی فروہ ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا : جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو «وأنا أول المسلمين» کے جگہ «وأنا من المسلمين» کہا کرو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19423) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟`
شعیب بن ابی حمزہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن منکدر، ابن ابی فروہ، اور دیگر فقہائے اہل مدینہ نے کہا: جب تم اس مذکورہ دعا کو پڑھو تو «وأنا أول المسلمين» کے جگہ «وأنا من المسلمين» کہا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 762]
762۔ اردو حاشیہ:
اس کی توضیح سنن ابی داود حدیث نمبر: [760] کے فوائد میں کر دی گئی ہے کہ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس کا مفہوم یہ ہے: اے اللہ! تیرے احکام کی تعمیل میں، میں سب سے پیش پیش ہوں۔ جیسے کہ آیت کریمہ ہے: «قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدين» [لزخرف: 81]
کہیے کہ اگر (بالفرض) رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں ہی سب پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔
حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا تھا: «وانا اول المؤمنين» [الاعراف: 143]
میں ایمان لانے والوں میں سب سے آگے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 762 سے ماخوذ ہے۔