حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طاؤس کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے ، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے ، اور آپ نماز میں ہوتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شاھد عند أحمد (5/226 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18829) (صحیح) » (دو صحابہ وائل اور ہلب رضی اللہ عنہما کی صحیح مرفوع روایات سے تقویت پاکر یہ مرسل حدیث بھی صحیح ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔`
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 759]
759۔ اردو حاشیہ:
علامہ مزی نے الاطراف میں کتاب المراسیل میں حرف طاء میں لکھا ہے: اس روایت کو ابوداؤد نے (کتاب المراسیل، باب ماجاء فی الاستفتاح، حدیث: 33 بتحقیق شعیب الارناؤوط) میں ذکر کیا ہے اور ایسے ہی امام بیہقی نے المعرفۃ میں لکھا ہے۔ [عون المعبود]
◈ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت اگرچہ مرسل ہے مگر صحیح السند ہے۔
اور احناف کے نزدیک ویسے بھی مرسل، صحیح اور حجت ہوتی ہے۔ اور اس کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے: «كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ» [صحيح بخاري، حديث: 740]
یعنی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ آدمی نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں بازو پر رکھے۔
جناب ہلب سے مروی ہے کہ «رايت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه وعن يساره ورايته قا ل يضع هذا على صدره» [مسند احمد: 5؍ 226]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فارغ ہو کر دائیں بائیں دونوں اطراف سے پھرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے تھے۔
◈ علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے غنیۃ الالمعی میں مسند احمد کی سند کو قو ی لکھا ہے اور یہ کہ ا س میں کوئی علت قادحہ نہیں ہے۔
اسی طرح حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے کہ «صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع يده اليمني على يده اليسري على صدره» [صحيح ابن خزيمه: 1؍ 243]
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا اور سینے پر رکھا۔
◈ شیخ البانی رحمہ اللہ کا تبصرہ یہ ہے کہ یہ حدیث دیگر احادیث کی روشنی میں صحیح ہے اور سینے پرہاتھ رکھنے کی دوسری احادیث اس کی شاہد ہیں۔
نیز صحیح بخاری کی روایت پر کوئی غبار نہیں اور ہر منصف مزاج مسلمان عملاً یہ دیکھ سکتا ہے کہ ہاتھ بازو (یعنی کلائی اور کہنی کے درمیانی حصے) پر رکھنے سے ہاتھ کہاں تک جاتے ہیں، ظاہر ہے کہ وہ ناف سے اوپر ہی رہیں گے، لہٰذا سینے پر ہاتھ رکھنا ہی صحیح ہے یا زیادہ سے زیادہ ناف سے اوپر رہیں۔ ناف سے نیچے والی روایات ازحد ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 759 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ [ابوداود 759]
نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی حدیث صحیح ہے

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) نے فرمایا: ’’أخبرنا ابن الحصین قال: أنبأنا ابن المذہب قال: أنبأنا أحمد بن جعفر قال: حدثنا عبد اللہ بن أحمد قال: حدثني أبي قال: حدثنا یحیی بن سعید قال: حدثنا سفیان قال: حدثني سماک عن قبیصۃ بن ھلب عن أبیہ قال: رأیت رسول اللہ ﷺ یضع ھذہ علٰی ھذہ علٰی صدرہ۔ ووصف یحیی الیمنٰی علی الیسری فوق المفصل۔‘‘

ہُلب (الطائی رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ یہ (دایاں ہاتھ) اس (بائیں ہاتھ) پر سینے پر رکھتے تھے۔

اور یحییٰ (القطان) نے دائیں (ہاتھ) کو بائیں (ہاتھ) پر جوڑ پر رکھ کر بتایا یا دکھایا۔

(التحقیق فی اختلاف الحدیث 1/ 283 ح 477، دوسرا نسخہ 1/ 338 ح 434)

اس حدیث میں ھذہ علٰی ھذہ یعنی دو دفعہ ھذہ آیا ہے جو کہ مسند احمد کے مطبوعہ نسخوں میں دو دفعہ چھپنے سے رہ گیا ہے، لیکن حافظ ابن الجوزی کی امام احمد تک سند بالکل صحیح ہے جیسا کہ راویوں کی درج ذیل تحقیق سے صاف ظاہر ہے: 1: ہبۃ اللہ بن محمد بن عبد الواحد بن احمد بن الحصین الشیبانی ثقہ صحیح السماع ہیں۔ (دیکھئے المنتظم لابن الجوزی 17/ 268، اور میری کتاب: تحقیقی مقالات 1/ 397۔398)



2: ابن المذہب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ (دیکھئے تحقیقی مقالات 1/ 396۔397، تاریخ بغداد 14/ 36، میزان الاعتدال 1/ 511)



3: احمد بن جعفر القطیعی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ (دیکھئے تحقیقی مقالات 1/ 393۔396)

ابن المذہب نے اُن کے اختلاط سے پہلے اُن سے سنا تھا۔ (لسان المیزان 1/ 145۔146)

لہٰذا یہاں اختلاط کا اعتراض بھی مردود ہے۔



4: عبد اللہ بن احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔ (دیکھئے تحقیقی مقالات 1/ 392۔393)



5: امام احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔



6: امام یحییٰ بن سعید القطان بالاجماع ثقہ ہیں۔



7: امام سفیان ثوری بالاجماع ثقہ ہیں اور آپ مدلس بھی تھے لیکن اس روایت میں آپ نے سماع کی تصریح کر دی ہے، لہٰذا یہاں تدلیس کا اعتراض مردودہے۔



8: سماک بن حرب صحیح مسلم کے بنیادی راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ (دیکھئے میرا مضمون: نصر الرب فی توثیق سماک بن حرب، اور میری کتاب: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 39۔49)

سماک کے شاگرد امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’ما یسقط لسماک بن حرب حدیث‘‘ سماک کی کوئی حدیث ساقط نہیں ہوتی۔ (تاریخ بغداد 9/ 215 وسندہ صحیح)



یاد رہے کہ امام سفیان ثوری کا سماک سے سماع سماک کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔ (دیکھئے نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 47)



9: قبیصہ بن ہلب الطائی رحمہ اللہ

قبیصہ کو درج ذیل علمائے محدثین نے صراحتاً یا تصحیحِ حدیث کے ذریعے سے ثقہ و صدوق قرار دیا۔

(1) عجلی (قال: تابعي ثقۃ / تاریخ الثقات: 1379)

(2) ابن حبان (ذکرہ فی الثقات 5/ 319)

(3) ترمذی (حسن حدیثہ: 252، 301، 1565)

(4) بغوی (شرح السنۃ 3/ 31 ح 570 وقال فی حدیثہ: ھذا حدیث حسن)

(5) ابن عبد البر (الاستیعاب فی اسماء الاصحاب 2/ 329 وقال فی حدیثہ: وھو حدیث صحیح)

جمہور کی توثیق کے مقابلے میں امام ابن المدینی اور امام نسائی کا قبیصہ بن ہلب کو مجہول کہنا صحیح نہیں، بلکہ یہاں جمہور کی ترجیح کی وجہ سے توثیق ہی مقدم ہے۔



10: ہلب الطائی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔

تحقیق کا خلاصہ: اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث اصولِ حدیث اور اصولِ محدثین کی رُو سے بالکل حسن لذاتہ یا صحیح یعنی حجت ہے۔


اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات (جلد 6 صفحہ 99 تا 104) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 99 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
طاؤس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دائیاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھتے، پھر ان کو اپنے سینے پر باندھ لیتے، اور آپ نماز میں ہوتے۔ [ابوداود 759]
نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا

تحریر: محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

❀ عن سھل بن سعد قال: کان الناس یؤمرون أن یضع الرجل یدہ الیمنٰی علیٰ ذراعہ الیسریٰ فی الصلوٰۃ

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) حکم دیا جاتا تھا کہ ہر شخص نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں بازوں پر رکھے۔ [بخاري: 102/1 ح 740، و موطأ امام مالك 159/1 ح 377 باب وضع اليدين احداهما على الاخريٰ فى الصلوٰة، ورواية ابن القاسم بتحقيقي: 409]

فوائد: ① اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے چاہئیں، آپ اگر اپنا دائیاں ہاتھ اپنی بائیں ذراع (بازو) پر رکھیں گے تو دونوں ہاتھ خودبخود سینہ پر آ جائیں گے۔ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی کی پشت، رسغ (کلائی) اور ساعد (کلائی سے لے کر کہنی تک) پر رکھا۔ [سنن نسائي مع حاشية السندهي: ج1 ص 141 ح 890، ابوداود: ج1 ص112 ح 727]

? اسے ابن خزيمه [243/1 ح 48] اور ابن حبان [الاحسان: 202/2 ح 485] نے صحیح کہا ہے۔



❀ سینے پر ہاتھ باندھنے کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ: يضع هٰذه عليٰ صدره…. إلخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ (ہاتھ) اپنے سینے پر رکھتے تھے …..إلخ [مسند احمد ج 5 ص 226 ح 22313، واللفظ له، التحقيق لا بن الجوزي ج 1 ص 283 ح 477 و فى نسخة ج 1 ص 338 و سنده حسن]

? سنن ابی داود [ح 756] وغیرہ میں ناف پر ہاتھ باندھنے والی جو روایت آئی ہے وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق الکوفی کی وجہ سے ضعیف ہے، اس شخص پر جرح، سنن ابی داود کے محولہ باب میں ہی موجود ہے۔

◈ علامہ نووی نے کہا: عبدالرحمٰن بن اسحاق بالاتفاق ضعیف ہے۔ [نصب الراية للزيلعي الحنفي314/1]



◈ نیموی فرماتے ہیں: وفيه عبدالرحمٰن بن إسحاق الواسطي وهو ضعيف

اور اس میں عبدالرحمٰن بن اسحاق الواسطی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [حاشيه آثار السنن ح 330]

? مزید جرح کے لئے عینی حنفی کی البنایۃ فی شرح الہدایۃ [208/2] وغیرہ کتابیں دیکھیں۔

◈ ہدایہ اولین کے حاشیہ [17، 102/1] میں لکھا ہوا ہے کہ یہ روایت بالاتفاق ضعیف ہے۔



③ یہ مسئلہ کہ مرد ناف کے نیچے اور عورت سینے پر ہاتھ باندھیں کسی صحیح حدیث یا ضعیف حدیث سے قطعا ثابت نہیں ہے، یہ مرد اور عورت کی نماز میں جو فرق کیا جاتا ہے کہ مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھیں اور عورتیں سینے پر، اس کے علاوہ مرد سجدے کے دوران بازو زمین سے اٹھائے رکھیں اور عورتیں بالکل زمین کے ساتھ لگ کر بازو پھیلا کر سجدہ کریں، یہ سب اہل الرائے کی موشگافیاں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے نماز کی ہیئت، تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک مرد و عورت کے لئے ایک ہی ہے، صرف لباس اور پردے میں فرق ہے کہ عورت ننگے سر نماز نہیں پڑھ سکتی اور اس کے ٹخنے بھی ننگے نہیں ہونے چاہئیں۔ اہل حدیث کے نزدیک جو فرق و دلیل نص صریح سے ثابت ہو جائے تو برحق ہے، اور بے دلیل و ضعیف باتیں مردود کے حکم میں ہیں۔



④ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منسوب تحت السرة ناف کے نیچے والی روایت سعید بن زربی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔

◈ حافظ ابن حجر نے کہا: منكر الحديث [تقريب التهذيب: 2304]

[ديكهئے مختصر الخلافيات للبيهقي: 342/1، تاليف ابن فرح الاشبيلي و الخلافيات مخطوط ص 37 ب و كتب اسماء الرجال]



⑤ بعض لوگ مصنف ابن ابی شیبہ سے تحت السرة والی روایت پیش کرتے ہیں حالانکہ مصنف ابن ابی شیبہ کی اصل قلمی اور مطبوعہ نسخوں میں تحت السرة کے الفاظ نہیں ہیں جبکہ قاسم بن قطلوبغا [كذاب بقول البقاعي / الضوء اللامع 186/6] نے ان الفاظ کا اضافہ گھڑ لیا تھا۔

◈ انور شاہ کشمیری دیوبندی فرماتے ہیں: پس بے شک میں نے مصنف کے تین (قلمی) نسخے دیکھے ہیں، ان میں سے ایک نسخے میں بھی یہ تحت السرة (والی عبارت) نہیں ہے۔ [فيض الباري 267/2]



⑥ حنبلیوں کے نزدیک مردوں اور عورتوں دونوں کو ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے چاہئیں۔ [الفقه على المذاهب الاربعة 251/1]



⑦ تقلیدی مالکیوں کی غیر مستند اور مشکوک کتاب المدونة میں لکھا ہوا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے ہاتھ باندھنے کے بارے میں فرمایا: مجھے فرض نماز میں اس کا ثبوت معلوم نہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ اسے مکروہ سمجھتے تھے۔ اگرنوافل میں قیام لمبا ہو تو ہاتھ باندھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس طرح وہ اپنے آپ کو مدد دے سکتا ہے۔ [ديكهئے المدونة 76/1] اس غیر ثابت حوالے کی تردید کے لئے موطأ امام مالک کی تبویب اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہی کافی ہے۔



⑧ جو لوگ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں ان کی دلیل المعجم الکبیر للطبرانی [74/20 ح 139] کی ایک روایت ہے جس کا ایک راوی خصیب بن حجدر كذاب ہے۔ [ديكهئے مجمع الزوائد 102/2]

? معلوم ہوا کہ یہ روایت موضوع ہے لہٰذا اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے۔



⑨ سعید بن جبیر (تابعی) فرماتے ہیں کہ نماز میں فوق السرة یعنی ناف سے اوپر (سینے پر) ہاتھ باندھنے چاہئیں۔ [امالي عبدالرزاق / الفوائد لابن مندة 234/2 ح 1899 و سنده صحيح]



⑩ سینے ہر ہاتھ باندھنے کے بارے میں مزید تحقیق کے لئے راقم الحروف کی کتاب نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ملاحظہ فرمائیں۔ اس کتاب میں مخالفین کے اعتراضات کے مدلل جوابات دیئے گئے ہیں۔ والحمدلله!
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 99 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ (نماز میں) اپنا ہاتھ سینے پر رکھتے تھے۔ دیکھئے: [مسند احمد 226/5 ح22313 و سنده حسن، هدية المسلمين ص33 ح11]

بعض آلِ دیو بند مصنف ابن ابی شیبہ سے «تحت السرة» والی ایک روایت پیش کرتے ہیں لیکن مصنف کے قدیم مطبوعہ اور عام مخطوطہ نسخوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔

دیو بندیوں کی اس ’’دلیل کے بارے میں محمد تقی عثمانی نے کہا: ’’ لیکن احقر کی نظر میں اس روایت سے استدلال کمزور ہے، اول تو اس لئے کہ اس روایت میں «تحت السرة» کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ملے، اگرچہ علامہ تیموری رحمہ الله نے ’’آثار السنن میں ’’مصنف کے متعدد نسخوں کا حوالہ دیا ہے، کہ ان میں یہ زیادتی مذکور ہے، تب بھی اس زیادتی کا بعض نسخوں میں ہونا اور بعض میں نہ ہونا اس کو مشکوک ضرور بنا دیتا ہے … [درسِ ترمذي ج2 ص23]

انور شاہ کشمیری نے کہا: میں نے مصنف کے تین نسخے دیکھے ہیں، ان میں سے ایک نسخے میں بھی یہ («تحت السرة» والی عبارت) نہیں ہے۔ [فيض الباري ج2 ص267 مترجما]

ملوم ہوا کہ دیو بندیوں کے پاس ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے کی کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔ رہے امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ علماء کے اقوال تو ان سے استدلال دو وجہ سے غلط ہے: اول: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے آجانے کے بعد، اس حدیث کے مخالف اقوال کی طرف دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

دوم: مشہور تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز میں ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے چاہئیں۔ [امالي عبدالرزاق بحواله الفوائد لابن منده ج2 ص234 ح1899، وسنده صحيح]

اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ’’عورتیں سینہ پر ہاتھ باندھیں اور یہ ان کے حق میں پردہ کا باعث ہے تو عرض ہے کہ یہ بات کئی وجہ سے غلط ہے۔ مثلاًً: اول: یہ تفریق کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

دوم: یہ تفریق کسی صحابی یا تابعی سے ثابت نہیں ہے۔

سوم: یہ تفریق امام ابوحنیفہ سے باسند صحیح ثابت نہیں ہے۔

۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77 سے ماخوذ ہے۔