سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَوْقَ السُّرَّةِ ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : تَحْتَ السُّرَّةِ ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر ضبیی کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا ( گٹا ) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سعید بن جبیر سے «فوق السرة» ( ناف کے اوپر ) مروی ہے اور ابومجلز نے «تحت السرة» ( ناف کے نیچے ) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں ۔