حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اس کیفیت میں ) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, ھشيم بن بشير صرح بالسماع عند ابن ماجه (811 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الافتتاح 10 (889)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 3 (811)، (تحفة الأشراف: 9378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/347) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 253 | سنن ابي داود: 747 | سنن ابن ماجه: 811 | سنن نسائي: 1084 | سنن نسائي: 1143 | سنن نسائي: 1150 | سنن نسائي: 1320

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (اس کیفیت میں) دیکھا تو آپ نے ان کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 755]
755۔ اردو حاشیہ:
قیام میں اس طرح ہاتھ باندھنا کہ دایاں ہاتھ بائیں پر ہو، سنت متواترہ ہے۔ نیز علماء کو چاہیے کہ عوام کی اصلاح کرتے رہا کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 755 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 253 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´رکوع اور سجدہ جاتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 253]
اردو حاشہ:
1؎:
اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں22 تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل 94 تکبیریں ہوئیں، واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ ((سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَه)) کہتے تھے، اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے، ان تکبیرات میں سے صرف تکبیرِ تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہو جائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہو جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 253 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 747 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جنہوں نے دو رکعت کے بعد اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر کیا ہے ان کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی تو آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی اور رفع یدین کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو دونوں ہاتھ ملا کر آپ نے انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لیا، جب یہ خبر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: سچ کہا میرے بھائی (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے، پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا یعنی دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں کے پکڑنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 747]
747۔ اردو حاشیہ:
رکوع میں تطبیق کا حکم منسوخ کر دیا گیا تھا شاید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع نہ ہوئی ہو، یا انہیں یاد نہ رہا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 747 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 811 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 811]
اردو حاشہ:
بعض اوقات غلطی پر تنبیہ کرنے کےلئے عملی طور پر فوراً اصلاح کردینا مناسب ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 811 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1084 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1084]
1084۔ اردو حاشیہ: ہر جھکنے اور اٹھنے کے وقت۔ البتہ اس سے رکوع سے اٹھنا مستثنیٰ ہے کہ وہاں اللہ اکبر کی بجائے «سمعَ اللَّهُ لمن حمدَهُ» مسنون ہے۔ گویا ایک آدھ کو اکثر کے تابع کر دیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1084 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1143 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدہ سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے دیکھا، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1143]
1143۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے: حدیث نمبر: 1084۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1143 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1150 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سجدے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے، جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1150]
1150۔ اردو حاشیہ: د یکھیے حدیث نمبر: 1084۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1150 سے ماخوذ ہے۔