حدیث نمبر: 752
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِصَحِيحٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي ليليٰ ضعفه الجمهور،قاله البوصيري (زوائد ابن ماجه :854) وقال ابن حجر: وھو صدوق،اتفقوا علي ضعف حديثه من قبل سوء حفظه(فتح الباري 143/13) وقال أنور شاه الكشميري الديوبندي: فھو ضعيف عندي كما ذھب إليه الجمھور(فيض الباري168/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1786) (ضعیف) » (اس کے راوی محمد بن ابی لیلی ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری
´جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا`
«. . . رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُمَا حَتَّى انْصَرَفَ . . .»
. . . میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے . . . [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة: 752]
فوائد و مسائل:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم رفع يديه حين افتتح الصلاة، ثم لم يرفعھما حتي انصرف.» میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، پھر سلام پھیرنے تک دوبارہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود:752، مسند ابي يعلي:1689، شرح معاني الآثار:224/1] تبصرہ:
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس کا راوی ابن ابی لیلیٰ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے
اس حدیث کے تحت: ◈ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ھذا الحديث ليس بصحيح.»
یہ حدیث صحیح نہیں۔
◈ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ابن أبي ليلي كان سيء الحفظ.»
ابن ابی لیلیٰ خراب حافظہ والا تھا۔ [العلل:143/1]
◈ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ومحمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي لا يحتج بحديثه، وھو أسوأ حالا عند أھل المعرفة بالحديث من يزيد بن أبي زياد.»
محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث حجت نہیں لی جائے گی، اس کی حالت محدثین کے نزدیک یزید بن ابی زیاد سے بھی بری تھی۔ [معرفة السنن والآثار للبيھقى:419/2]
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم ، شمارہ نمبر 12، حدیث/صفحہ نمبر: 16 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنہوں نے رکوع کے وقت رفع یدین کا ذکر نہیں کیا ہے ان کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 752]
752۔ اردو حاشیہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ حفاظ حدیث متفق ہیں کہ اس روایت (براء بن عازب) میں «ثم لايعود» کے لفظ مدرج (یعنی الحاقی) ہیں۔ جو کہ یزید بن ابی زیادہ کا اضافہ ہیں۔
◈ جبکہ شعبہ، ثوری، خالد طحان اور زہیر وغیرہ حفاظ نے اس حدیث کو اس اضافے کے بغیر روایت کیا ہے۔
◈حمیدی نے کہا کہ اس اضافے کو یزید نے روایت کیا ہے اور وہ (اپنے نام کے معنی کی مناسبت سے) زیادتی کرنے والا ہے۔
◈عثمان دارمی نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔
◈ایسے ہی امام بخاری رحمہ اللہ، احمد، یحیی، دارمی اور کئی ایک محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔
◈یحیی بن محمد بن یحیی کہتے ہیں میں نے احمد بن حنبل کو سنا کہتے تھے: ’’ یہ حدیث مگر بعد میں جب اسے تلقین کی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا اور یہ الفاظ ذکر کرنا شروع کر دئیے۔ مذيد ديكهيے: [التلخيص الحبير: 1؍22]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 752 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا جس وقت آپ نے نماز شروع کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اٹھایا یہاں تک کہ آپ نماز سے فارغ ہو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔[ابوداود 752]
حسن لغیرہ کی دو قسمیں ہیں:

1- ایک ضعیف سند والی روایت جو بذاتِ خود ضعیف ہے، جبکہ دوسری روایت حسن لذاتہ ہے۔ یہ سند اس حسن لذاتہ کے ساتھ مل کر حسن ہو گئی۔

2- ایک ضعیف سند والی روایت جو بذاتِ خود ضعیف ہے اور اس مفہوم کی دوسری ضعیف و مردود روایات بھی موجود ہیں تو بعض علماء اسے حسن لغیر ہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے۔

دلیل نمبر 1: قرآن و حدیث و اجماع سے یہ قطعاً ثابت نہیں ہے کہ ’’ضعیف جمع ضعیف جمع ضعیف‘‘ حسن لغیرہ والی روایت حجت ہے۔

دلیل نمبر 2: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں ہے۔

دلیل نمبر 3: تابعین کرام رحمہم اللہ سے ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں ہے۔

دلیل نمبر 4: امام بخاری و امام مسلم وغیرہما سے ایسی روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں ہے۔

دلیل نمبر5: امام ترمذی رحمہ اللہ کے علاوہ عام محدثین سے ایسی ’’حسن لغیرہ‘‘ روایت کا حجت ہونا ثابت نہیں ہے۔ مثلاً محمد بن ابی لیلیٰ (ضعیف) نے «عن أخيه عيسٰي عن الحكم عن عبد الرحمٰن بن أبى ليليٰ عن البراء بن عازب» ترکِ رفع یدین کی ایک حدیث بیان کی ہے [سنن ابي داود: 752]
اس کی سند ضعیف ہے۔

اور اس کے متعدد ضعیف شواہد ہیں۔ مثلاً دیکھئے [سنن ابي داود 749، 748]

ان تمام شواہد کے باوجو د امام ابوداود فرماتے ہیں: «هٰذا الحديث ليس بصحيح»

یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

[ابو داود: 752]

اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 1 صفحہ 291 تا 304)
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 291 سے ماخوذ ہے۔