حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَذْكُرْ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ أَحَدٌ غَيْرُ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نافع کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے ) کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب تفريع استفتاح الصلاة / حدیث: 742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (721)، (تحفة الأشراف: 8017، 8396) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز شروع کرنے کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے «رفعهما دون ذلك» (انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 742]
742۔ اردو حاشیہ:
اوپر بیان ہوا کہ ابن جریج نے نافع سے روایت کیا ہے کہ سب مواقع پر اپنے ہاتھ برابر ہی اونچا کرتے تھے۔ ان دونوں رایتوں کو محتلف مواقع پر محمول کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 742 سے ماخوذ ہے۔