سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة— ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
باب افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ يَعْنِي السَّعْدِيَّ ، قَالَ : " صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ ، فَقَالَ لَهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ : تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ ، فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ ، وَقَالَ أَبِي : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ ، وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ " .
´نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ` عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی ، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا ، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا ، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا : آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ ! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا : میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا ، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں نماز پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا، اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبداللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟! تو عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 740]
اس حدیث میں بھی سجدوں کے رفع الیدین کا اثبات ہے۔ ابوبکر المنذری، ابوعلی الطبری اور بعض اہل حدیث اس کے قائل ہیں، لیکن یہ حدیث نضر بن کثیر سعدی کی بنا پر ضعیف ہے۔ حافظ ابواحمد نیشاپوری نے کہا: یہ حدیث ابن طاؤس کی منکر روایات میں سے ہے۔ ابوحاتم نے کہا ہے: اس میں نظر (اعتراض) ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: ان کے پاس منکر روایات بھی ہیں۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ ثقات سے موضوعات روایت کرتا ہے اس سے حجت لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں مگر علامہ شوکانی نے کہا ہے کہ سجدوں کے رفع الیدین کی نفی ہی صحیح طور پر ثابت ہے تاآنکہ کوئی صحیح ترین دلیل مل جائے۔ [ملخص از عون المعبود] «والله اعلم»
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟، تو وہیب نے ان سے کہا: آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور میرے والد نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1147]
➋ سلف صالحین دین کے معاملے میں اس قدر حساس اور محتاط تھے کہ کوئی نئی ہوتی چیز دیکھ کر فوراًً اس کا انکار کر دیتے یا اس کی دلیل پوچھتے۔
➌ جس شخص سے اس کے کسی کام کے متعلق پوچھا: جائے تو اسے غصے سے جواب نہیں دینا چاہیے بلکہ اس کی دلیل پیش کر کے حجت قائم کرنی چاہیے۔