سنن ابي داود
تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها— ابواب: ان چیزوں کی تفصیل، جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نہیں ٹوٹتی
باب مَنْ قَالَ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ شَىْءٌ باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ ، قَالَ : مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
´ابوالوداک کہتے ہیں کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا ، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا ، وہ پھر آیا ، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا ، اس طرح تین بار ہوا ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو ، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو ، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 720]
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔ تاہم جن کے نزدیک صحیح ہیں۔ ان کے نزدیک تو ا س عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اور وہ ہیں عورت، گدھا اور کالا کتا۔ (دیکھیے، حدیث: 702 اور اس کا فائدہ) یعنی اس حدیث کی وجہ سے، حدیث: 719 اور 720 کے عموم سے مذکورہ تینوں چیزیں مستثنی ہوں گی یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی اور اس کا اعادہ ضروری ہو گا۔ البتہ ان کے علاوہ کسی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ «والله اعلم»
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا يقطع الصلاة شيء وادراوا ما استطعتم . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی (البتہ سامنے سے) گزرنے والے کو حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرو . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 186]
«لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ» اس کی نماز کو باطل نہیں کرتی۔
«إدْرَءُوا» دفع کرو، ہٹاؤ، دور کرو۔ اس کی سند میں "مجالد" نامی راوی ہے جس کے متعلق کلام کیا گیا ہے، یعنی اسے اکثر ائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن دیگر شواہد کی بنا پر مذکورہ روایت حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق وتخریج میں وضاحت کی ہے۔