حدیث نمبر: 720
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ ، قَالَ : مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالوداک کہتے ہیں کہ` ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا ، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا ، وہ پھر آیا ، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا ، اس طرح تین بار ہوا ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا : نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو ، کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو ، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہاں دو حدیثیں ایک دوسرے کے معارض تو ہیں مگر دوسری حدیث ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی‘‘ ضعیف ہے، اس لیے دونوں میں تطبیق کے لیے اب کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے، ہاں نماز ٹوٹ جانے سے مطلب باطل ہونا نہیں بلکہ خشوع و خضوع میں کمی واقع ہونا ہے، جمہور علماء نے یہی مطلب بیان کیا ہے، اور اسی معنی میں ان صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و اقوال کو لیا جائے گا جن سے یہ مروی ہے کہ ’’نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی ‘‘۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (719)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3989) (ضعیف) » (اس سے پہلی والی حدیث ملاحظہ فرمائیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 719 | بلوغ المرام: 186

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 720]
720۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔ تاہم جن کے نزدیک صحیح ہیں۔ ان کے نزدیک تو ا س عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اور وہ ہیں عورت، گدھا اور کالا کتا۔ (دیکھیے، حدیث: 702 اور اس کا فائدہ) یعنی اس حدیث کی وجہ سے، حدیث: 719 اور 720 کے عموم سے مذکورہ تینوں چیزیں مستثنی ہوں گی یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی اور اس کا اعادہ ضروری ہو گا۔ البتہ ان کے علاوہ کسی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ «والله اعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 720 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 186 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نمازی کے سترے کا بیان`
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: ‏‏‏‏لا يقطع الصلاة شيء وادراوا ما استطعتم . . .»
". . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی (البتہ سامنے سے) گزرنے والے کو حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرو . . ." [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 186]
لغوی تشریح:
«لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ» اس کی نماز کو باطل نہیں کرتی۔
«إدْرَءُوا» دفع کرو، ہٹاؤ، دور کرو۔ اس کی سند میں "مجالد" نامی راوی ہے جس کے متعلق کلام کیا گیا ہے، یعنی اسے اکثر ائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن دیگر شواہد کی بنا پر مذکورہ روایت حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق وتخریج میں وضاحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 186 سے ماخوذ ہے۔