حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفِرْيَابِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُور بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اقْتَتَلَتَا فَأَخَذَهُمَا ، قَالَ عُثْمَانُ : فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا ، وَقَالَ دَاوُدُ : فَنَزَعَ إِحْدَاهُمَا عَنِ الْأُخْرَى فَمَا بَالَى ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے ، اس میں یہ ہے کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا ، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر دونوں کو جدا کر دیا ۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا ، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها / حدیث: 717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, انظر الحديث السابق (716)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5687) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نمازی کے آگے سے گدھا کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
منصور سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بنی عبدالمطلب کی دو لڑکیاں لڑتی ہوئی آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پکڑ لیا، عثمان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑ کر دونوں کو جدا کر دیا۔ اور داود بن مخراق کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا، اور اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 717]
717۔ اردو حاشیہ:
سنن نسائی کی روایت: (755) میں ہے کہ "وہ دو بچیاں آئیں اور آپ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا۔" اور ظاہر ہے کہ گھروں میں ایسے لطائف ہوتے رہتے ہیں، اس میں ماں باپ کے لیے اسوہ ہے کہ نماز کے دوران میں ایسا عمل قلیل مباح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 717 سے ماخوذ ہے۔