سنن ابي داود
تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها— ابواب: ان چیزوں کی تفصیل، جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نہیں ٹوٹتی
باب مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ باب: کن چیزوں کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ يَعْنِي الْمَذْحِجِيَّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ ، قَالَ : قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ فِيهِ : قَطَعَ صَلَاتَنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے ہماری نماز کاٹ دی ، اللہ اس کی چال کاٹ دے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابومسہر نے بھی سعید سے روایت کیا ہے ، جس میں صرف اتنا ہے : ” اس نے ہماری نماز کاٹ دی “ ۔