سنن ابي داود
تفرح أبواب السترة— ابواب: سترے کے احکام ومسائل
باب الدُّنُوِّ مِنَ السُّتْرَةِ باب: سترے کے قریب کھڑے ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، وَابْنُ السَّرْحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى سُتْرَةٍ فَلْيَدْنُ مِنْهَا لَا يَقْطَعِ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ وَاقِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَفْوَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَاخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ .
´سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص سترے کی آڑ میں نماز پڑھے تو چاہیئے کہ اس کے نزدیک رہے ، تاکہ شیطان اس کی نماز توڑ نہ سکے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے واقد بن محمد نے صفوان سے ، صفوان نے محمد بن سہل سے ، محمد نے اپنے والد سہل بن ابی حثمہ سے ، یا ( بغیر اپنے والد کے واسطہ کے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اور بعض نے نافع بن جبیر سے اور نافع نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے ، اور اس کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھے، تو اس سے قریب رہے کہ شیطان اس کی نماز باطل نہ کر سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 749]
➋ سترہ سجدے کی جگہ کے قریب ہی ہونا چاہیے تاکہ نظر سجدے کی جگہ سے آگے تجاوز نہ کرے۔ اگر سترہ دور ہو گا تو نظر آگے جائے گی اور شیطانی وار سے بچاؤ بھی مشکل ہو گا جس سے اصل مقصد فوت ہو جائے گا، اس لیے نماز پڑھنے والے کو سترہ کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے تاکہ خود بھی معصیت کا شکار نہ ہو اور دوسرے کو بھی موقع نہ دے۔
➌ آج کل اس سنت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے اس کی اشاعت کی خوب ضرورت ہے۔ جس حدیث میں یہ آتا ہے کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، وہ سنداً ضعیف ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے: [ضعیف سنن أبي داود، (مفصل) للألباني: 265/9، حدیث: 116]
نیز جب کوئی سترہ کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کی نماز توڑ دیتا ہے۔ مذکورہ مسند حمیدی کی حد یث صحیح ہے۔ رواه أبو داود (695)، والنسائي (748) وصححه ابن خزيمة (803) وابن حبان (2373)، والحاكم (1/ 251)، وقال: «صـحـيـح عـلى شرط الشيخين» والنووى [خلاصة الاحكام 1732]
وقـال الـعـقيلي: «وهذا ثابت الضعفاء» 4/ 196 و قـال ابـن عبـد البر: ”حديث حسن“ التمهيد 4/ 195 وقـال ابـن الـقـيـم: ”رجـال إسناده رجال مسلم [تـهـذيـب الـسـنـن ـ وصـحـحـه الالباني] [الصحيحة 1373 صحيح ابي داود 692] والاعظمي [الجامع الكامل ح: 2546]، و نبيل بن منصور [انيس السارى: 39/1]
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز سترہ کے قریب ہو کر پڑھنی چاہیے ورنہ خطرہ ہے کہ شیطان سترہ کے بغیر نماز پڑھنے والے کی نماز توڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سترہ کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین