سنن ابي داود
تفرح أبواب السترة— ابواب: سترے کے احکام ومسائل
باب الصَّلاَةِ إِلَى الْمُتَحَدِّثِينَ وَالنِّيَامِ باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو ، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
694۔ اردو حاشیہ:
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور (بعض اوقات) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھیں۔ دیکھیے: [صحيح بخار ي، حديث: 382 وصحيح مسلم، حديث: 512]
معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے اور جہاں کہیں لوگ باتوں میں مشغول ہوں اور قبلہ رخ ہوں تو بظاہر نمازی کو اس سے تشویش ہو سکتی ہے اور اس کے خشوع میں خلل آئے گا، لہٰذا ایسی صورتوں میں بھی احتیاط کرنا اچھا ہے۔
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور (بعض اوقات) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھیں۔ دیکھیے: [صحيح بخار ي، حديث: 382 وصحيح مسلم، حديث: 512]
معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے اور جہاں کہیں لوگ باتوں میں مشغول ہوں اور قبلہ رخ ہوں تو بظاہر نمازی کو اس سے تشویش ہو سکتی ہے اور اس کے خشوع میں خلل آئے گا، لہٰذا ایسی صورتوں میں بھی احتیاط کرنا اچھا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 694 سے ماخوذ ہے۔