سنن ابي داود
تفرح أبواب السترة— ابواب: سترے کے احکام ومسائل
باب الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا باب: سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ شَرِيكًا صَلَّى بِنَا فِي جَنَازَةٍ الْعَصْرَ ، فَوَضَعَ قَلَنْسُوَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ " ، يَعْنِي فِي فَرِيضَةٍ حَضَرَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ` میں نے شریک کو دیکھا ، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی ( بطور سترہ ) اپنے سامنے رکھ لی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔`
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 691]
سفیان بن عیینہ کا بیان ہے کہ میں نے شریک کو دیکھا، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک جنازے کے موقع پر عصر پڑھی تو اپنی ٹوپی (بطور سترہ) اپنے سامنے رکھ لی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 691]
691۔ اردو حاشیہ:
سترہ میں مسنون تو یہی ہے کہ ایک ہاتھ ہو، لیکن اگر کوئی چیز میسر نہ ہو تو اس سے کم بھی کفایت کر جائے گی۔
سترہ میں مسنون تو یہی ہے کہ ایک ہاتھ ہو، لیکن اگر کوئی چیز میسر نہ ہو تو اس سے کم بھی کفایت کر جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 691 سے ماخوذ ہے۔