سنن ابي داود
تفرح أبواب السترة— ابواب: سترے کے احکام ومسائل
باب الْخَطِّ إِذَا لَمْ يَجِدْ عَصًا باب: سترہ کے لیے لاٹھی نہ ملے تو زمین پر لکیر کھینچ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کوئی شخص نماز پڑھنے کا قصد کرے ، تو اپنے آگے ( بطور سترہ ) کوئی چیز رکھ لے ، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی ہی گاڑ لے ، اور اگر اس کے ساتھ لاٹھی بھی نہ ہو تو زمین پر ایک لکیر ( خط ) کھینچ لے ، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 943 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 943]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 943]
اردو حاشہ:
یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے روایت سے خط کھینچنے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔
یہ روایت ضعیف ہے۔
اس لئے روایت سے خط کھینچنے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 943 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 185 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´سترے کے لئے صرف لکیر کھینچنا`
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد فلينصب عصا، فإن لم يكن فليخط خطا، ثم لا يضره من مر بين يديه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز گاڑ لے یا قائم کر لے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 185]
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد فلينصب عصا، فإن لم يكن فليخط خطا، ثم لا يضره من مر بين يديه . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز گاڑ لے یا قائم کر لے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 185]
� لغوی تشریح:
«فَلْيَنْصِبْ» «ىنَسْبٌ» سے ماخوذ ہے۔ یہ باب ضرب اور نصر دونوں سے آتا ہے۔ زمین میں کسی چیز کو گاڑنا، قائم کرنا، کھڑا کرنا وغیرہ۔
«لَمْ يُصِبْ» سے ماخوذ ہے یعنی وہ صواب اور درستی کو نہیں پہنچ سکا۔ سترے کے لئے صرف لکیر کھینچنے میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ تو اس سے منع کرتا ہے اور جماعت اس کی قائل ہے اور انہوں نے سترے کے لیے جب کوئی چیز دستیاب نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں لکیر کھینچنے کو کافی سمجھا ہے۔ پھر اس میں بھی اختلاف رائے ہے کہ سترے کی کیفیت کیسی ہو؟ امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہلالی صورت کا ہونا چاہیے، یعنی محراب کی طرح قوس دار۔ اور بعض نے کہا ہے قبلہ رخ لمبا خط کھینچا جائے۔ اور یہ بھی رائے ہے کہ دائیں سے بائیں کھینچا جائے۔
فائدہ:
اس حدیث کو مضطرب کہنے والے ابن صلاح ہیں۔ مصنف نے [ضعيف سنن أبى داود، حديث 134] میں تفصیل سے اس پر نقد کیا ہے، نیز ہمارے فاضل محقق اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اس لیے کہ اس میں شدید اضطراب ہے اور دو مجہول راوی ہیں۔ دیکھیے: [ضعيف سنن أبى داود، حديث: 134] لہٰذا سترے کے لیے خط (لکیر) کھینچنا درست نہیں ہے۔
«فَلْيَنْصِبْ» «ىنَسْبٌ» سے ماخوذ ہے۔ یہ باب ضرب اور نصر دونوں سے آتا ہے۔ زمین میں کسی چیز کو گاڑنا، قائم کرنا، کھڑا کرنا وغیرہ۔
«لَمْ يُصِبْ» سے ماخوذ ہے یعنی وہ صواب اور درستی کو نہیں پہنچ سکا۔ سترے کے لئے صرف لکیر کھینچنے میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ تو اس سے منع کرتا ہے اور جماعت اس کی قائل ہے اور انہوں نے سترے کے لیے جب کوئی چیز دستیاب نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں لکیر کھینچنے کو کافی سمجھا ہے۔ پھر اس میں بھی اختلاف رائے ہے کہ سترے کی کیفیت کیسی ہو؟ امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ ہلالی صورت کا ہونا چاہیے، یعنی محراب کی طرح قوس دار۔ اور بعض نے کہا ہے قبلہ رخ لمبا خط کھینچا جائے۔ اور یہ بھی رائے ہے کہ دائیں سے بائیں کھینچا جائے۔
فائدہ:
اس حدیث کو مضطرب کہنے والے ابن صلاح ہیں۔ مصنف نے [ضعيف سنن أبى داود، حديث 134] میں تفصیل سے اس پر نقد کیا ہے، نیز ہمارے فاضل محقق اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اس لیے کہ اس میں شدید اضطراب ہے اور دو مجہول راوی ہیں۔ دیکھیے: [ضعيف سنن أبى داود، حديث: 134] لہٰذا سترے کے لیے خط (لکیر) کھینچنا درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 185 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1023 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1023- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرے، تو وہ سامنے کی طرف کوئی چیز رکھ لے، اگر اسے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ لاٹھی کھڑی کرلے، اگر لاٹھی بھی نہیں ملتی، تو وہ لیکر کھینچ لے۔ پھر اس کی دوسری طرف سے جو بھی گزرے گا وہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1023]
فائدہ:
یہ روایت ضعیف ہے لیکن نمازی کا سترے کا اہتمام کرنا صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے، کچھ تفصیل پہلے بھی گزر چکی ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے لیکن نمازی کا سترے کا اہتمام کرنا صحیح البخاری اور صحیح مسلم کی احادیث سے ثابت ہے، کچھ تفصیل پہلے بھی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1022 سے ماخوذ ہے۔