سنن ابي داود
تفرح أبواب الصفوف— ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
باب مُقَامِ الإِمَامِ مِنَ الصَّفِّ باب: صف میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بَشِيرِ بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَسَمِعَتْهُ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَسِّطُوا الْإِمَامَ وَسُدُّوا الْخَلَلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام کو ( صف کے ) بیچ میں کھڑا کرو ، اور خالی جگہوں کو پر کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 681
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف لكن الشطر الثاني منه صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أمة الواحد مجهولة (تقريب : 8534), وابنھا يحيي بن بشير بن خلاد مستور (تقريب :7515), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 435 | صحيفه همام بن منبه: 45
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صف میں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام کو (صف کے) بیچ میں کھڑا کرو، اور خالی جگہوں کو پر کرو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 681]
681۔ اردو حاشیہ:
یعنی امام صفوں کے آگے اس طرح کھڑا ہو کہ وہ مقتدیوں کے وسط (درمیان) میں ہو، یہ نہ ہو کہ مقتدی دائیں یا بائیں، کسی ایک جانب زیادہ تعداد میں ہوں، ایسی صورت میں امام وسط میں نہیں رہے گا۔ یہی صورت آخری صف میں بھی ہو، جس میں چند افراد ہوں، یعنی وہ صف کے ایک کنارے پر کھڑے نہ ہوں، بلکہ درمیان میں (امام کے دائیں اور بائیں) کھڑے ہوں تاکہ امام درمیان میں رہے۔ لیکن روایت کا یہ پہلا حصہ ضعیف ہے، اس لیے اسے مستحب تو قرار دیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں۔ البتہ حدیث کا دوسرا حصہ ’’ صف کے خلا کو پر کرو۔“ صحیح ہے، کیونکہ یہ حکم دوسری احادیث سے بھی ثابت ہے۔
یعنی امام صفوں کے آگے اس طرح کھڑا ہو کہ وہ مقتدیوں کے وسط (درمیان) میں ہو، یہ نہ ہو کہ مقتدی دائیں یا بائیں، کسی ایک جانب زیادہ تعداد میں ہوں، ایسی صورت میں امام وسط میں نہیں رہے گا۔ یہی صورت آخری صف میں بھی ہو، جس میں چند افراد ہوں، یعنی وہ صف کے ایک کنارے پر کھڑے نہ ہوں، بلکہ درمیان میں (امام کے دائیں اور بائیں) کھڑے ہوں تاکہ امام درمیان میں رہے۔ لیکن روایت کا یہ پہلا حصہ ضعیف ہے، اس لیے اسے مستحب تو قرار دیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں۔ البتہ حدیث کا دوسرا حصہ ’’ صف کے خلا کو پر کرو۔“ صحیح ہے، کیونکہ یہ حکم دوسری احادیث سے بھی ثابت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 681 سے ماخوذ ہے۔