سنن ابي داود
تفرح أبواب الصفوف— ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
باب صَفِّ النِّسَاءِ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ عَنِ الصَّفِّ الأَوَّلِ باب: عورتوں کی صف کا بیان اور یہ کہ وہ پہلی صف سے پیچھے ہو۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ فِي النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوگ صف اول سے پیچھے رہتے ( اور اسے اپنی عادت بنا لیتے ) ہیں اللہ انہیں جہنم میں بھی پیچھے کر دے گا “ ۔
وضاحت:
یہ حکم مردوں سے مخصوص ہے اور اس میں ان کے لیے تہدید ہے جو سستی و کاہلی کی وجہ سے صف اول سے پیچھے رہتے ہیں۔ اللہ انہیں جہنم کے پچھلے درجے میں ڈالے گا۔۔۔ یا جنت میں اولین داخل ہونے والوں میں شامل نہ کرے گا۔۔۔ یا یہ معنی بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے گا تو انہیں آخر میں نکالے گا «اللھم انا نسالک العفو والعافیۃ» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتوں کی صف کا بیان اور یہ کہ وہ پہلی صف سے پیچھے ہو۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو لوگ صف اول سے پیچھے رہتے (اور اسے اپنی عادت بنا لیتے) ہیں اللہ انہیں جہنم میں بھی پیچھے کر دے گا۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 679]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو لوگ صف اول سے پیچھے رہتے (اور اسے اپنی عادت بنا لیتے) ہیں اللہ انہیں جہنم میں بھی پیچھے کر دے گا۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 679]
679۔ اردو حاشیہ:
یہ حکم مردوں سے مخصوص ہے اور اس میں ان کے لیے تہدید ہے جو سستی و کاہلی کی وجہ سے صف اول سے پیچھے رہتے ہیں۔ اللہ انہیں جہنم کے پچھلے درجے میں ڈالے گا . . . . یا جنت میں اولین داخل ہونے والوں میں شامل نہ کرے گا . . . . یا یہ معنی بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے گا تو انہیں آخر میں نکالے گا۔ «اللهم انا نسألك العفو والعافية»
یہ حکم مردوں سے مخصوص ہے اور اس میں ان کے لیے تہدید ہے جو سستی و کاہلی کی وجہ سے صف اول سے پیچھے رہتے ہیں۔ اللہ انہیں جہنم کے پچھلے درجے میں ڈالے گا . . . . یا جنت میں اولین داخل ہونے والوں میں شامل نہ کرے گا . . . . یا یہ معنی بھی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ گناہ گاروں کو جہنم سے نکالے گا تو انہیں آخر میں نکالے گا۔ «اللهم انا نسألك العفو والعافية»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 679 سے ماخوذ ہے۔