سنن ابي داود
تفرح أبواب الصفوف— ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
باب مُقَامِ الصِّبْيَانِ مِنَ الصَّفِّ باب: بچے صف میں کہاں کھڑے ہوں؟
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ شَاذَانَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ الرَّقَّامُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ ، حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : " فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَهُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ، فَذَكَرَ صَلَاتَهُ ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا صَلَاةُ " ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ : صَلَاةُ أُمَّتِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ` ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں ؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، پہلے مردوں کی صف لگوائی ، ان کے پیچھے بچوں کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی ۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( میری امت کی ) نماز اسی طرح ہے “ ۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے ” میری امت کی نماز “ فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1115)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بچے صف میں کہاں کھڑے ہوں؟`
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میری امت کی) نماز اسی طرح ہے۔“ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے ”میری امت کی نماز“ فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 677]
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں کی صف لگوائی، ان کے پیچھے بچوں کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ پھر ابومالک رضی اللہ عنہ نے آپ کی نماز کی کیفیت بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میری امت کی) نماز اسی طرح ہے۔“ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں کہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ آپ نے ”میری امت کی نماز“ فرمایا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 677]
677۔ اردو حاشیہ:
حق یہ ہے کہ جماعت میں امام کے قریب اور پہلی صف میں صاحب علم اور بالغ افراد کھڑے ہوں، بعد ازاں بچوں کا مقام ہے، مگر ان کی صف علیحدہ ہو، اس کے لیے کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔ نمازی کم ہوں تو بچے بھی پہلی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں جیسے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہے، بیان کرتے ہیں: ’’میں صف میں داخل ہو گیا اور کسی نے مجھ پر انکار نہیں کیا۔“ [صحيح بخاري، حديث: 493 وصحيح مسلم، حديث: 504]
اور یہ اس وقت قریب البلوغ تھے۔
حق یہ ہے کہ جماعت میں امام کے قریب اور پہلی صف میں صاحب علم اور بالغ افراد کھڑے ہوں، بعد ازاں بچوں کا مقام ہے، مگر ان کی صف علیحدہ ہو، اس کے لیے کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔ نمازی کم ہوں تو بچے بھی پہلی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں جیسے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہے، بیان کرتے ہیں: ’’میں صف میں داخل ہو گیا اور کسی نے مجھ پر انکار نہیں کیا۔“ [صحيح بخاري، حديث: 493 وصحيح مسلم، حديث: 504]
اور یہ اس وقت قریب البلوغ تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 677 سے ماخوذ ہے۔