سنن ابي داود
تفرح أبواب الصفوف— ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
باب مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ باب: کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَي سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” چاہیئے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں ۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں ۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں “ ۔
وضاحت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اہل علم و فضل کو اپنے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا تاکہ آپ کی نماز کا بغور مشاہدہ کر لیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔ چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہے۔ اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل عمل و فضل کو بروقت حاضر ہو کر امام کے قریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملاً ان کا اہل علم و فضل ہونا ثابت ہو سکے۔ اگر یہ صف اول سے پیچھے رہتے ہیں تو ان کا اہل علم و فضل ہونا محل نظر ہو گا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟`
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "چاہیئے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 674]
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "چاہیئے کہ تمہارے اہل عقل و دانش میرے قریب کھڑے ہوا کریں۔ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں۔ ان کے بعد وہ جو ان کے قریب ہیں۔" [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 674]
674۔ اردو حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اہل و علم و فضل کو اپنے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بغور مشاہدہ کر لیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔ چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہے تاکہ یہ لوگ امام کو اس کی خطا و سہو پر متنبہ کر سکیں اور اگر ضرورت پیش آئے تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا سکے . . . . . اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم و فضل کر بروقت حاضر ہو کر امام کے قریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملاً ان کا اہل علم و فضل ہونا ثابت ہو سکے، اگر یہ صف اول سے پیچھے رہتے ہیں تو ان کا "اہل علم وفضل" ہونا محل نظر ہو گا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اہل و علم و فضل کو اپنے قریب کھڑے ہونے کا حکم دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بغور مشاہدہ کر لیں اور ادب کا تقاضا بھی پورا ہو۔ چنانچہ امت میں بھی یہی مطلوب ہے تاکہ یہ لوگ امام کو اس کی خطا و سہو پر متنبہ کر سکیں اور اگر ضرورت پیش آئے تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا سکے . . . . . اس سے بالضرورت یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم و فضل کر بروقت حاضر ہو کر امام کے قریب جگہ لینی چاہیے تاکہ عملاً ان کا اہل علم و فضل ہونا ثابت ہو سکے، اگر یہ صف اول سے پیچھے رہتے ہیں تو ان کا "اہل علم وفضل" ہونا محل نظر ہو گا جیسے کہ بالعموم مشاہدہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 674 سے ماخوذ ہے۔