حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدُفِعْنَا إِلَى السَّوَارِي فَتَقَدَّمْنَا وَتَأَخَّرْنَا ، فَقَالَ أَنَسٌ : " كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ` میں نے انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو ( ازدحام کی وجہ سے ) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا ۔ چنانچہ ہم ( ستونوں سے ) آگے پیچھے ہو گئے ( یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے ) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے ( یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے ) ۔

وضاحت:
چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے اس لیے جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / تفرح أبواب الصفوف / حدیث: 673
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, الثوري صرح بالسماع عند البيھقي (3/104) والحاكم (1/210، 218)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، سنن النسائی/الإمامة 33 (822)، (تحفة الأشراف: 980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 229

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ستونوں کے درمیان صف بندی کا بیان۔`
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے دن نماز پڑھی تو (ازدحام کی وجہ سے) ہمیں ستونوں کی طرف دھکیل دیا گیا۔ چنانچہ ہم (ستونوں سے) آگے پیچھے ہو گئے (یعنی ستونوں کے درمیان کھڑے نہیں ہوئے) اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہم اس سے بچا کرتے تھے (یعنی ستونوں کے درمیان صفیں نہیں بناتے تھے)۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 673]
673۔ اردو حاشیہ:
چونکہ ستونوں کی وجہ سے صف کٹ جاتی ہے، اس لیے جائز نہیں۔ ہاں اگر ازدحام شدید اور انبوہ کثیر کی وجہ سے کہیں اور جگہ نہ مل رہی ہو تو اضطراراً مباح ہے مگر حتی الامکان بچنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 673 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 229 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ستونوں کے درمیان صف لگانے کی کراہت۔`
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 229]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اتنی بھیڑ ہو گئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا۔

2؎:
اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے، ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 229 سے ماخوذ ہے۔