سنن ابي داود
تفرح أبواب الصفوف— ابواب: صف بندی کے احکام ومسائل
باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی صفیں درست کرنے کے لئے مصلیوں کو اگر کوئی آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے ہٹاتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نماز میں سکون و اطمینان کا پورا خیال کرتے ہیں، ادھر ادھر نہیں دیکھتے، اور نہ کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیاہے کہ صفوں کے درمیان شگاف کو بند کرنے کے لئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے صف کے بیچ میں آ کر کوئی داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے داخل ہو جانے دیتے ہیں اس سے مزاحمت نہیں کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
672۔ اردو حاشیہ:
: یعنی صفیں برابر کرانے والوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا صف اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کے ساتھ کندھے نہیں بھڑاتے بلکہ نرم خوئی کا اظہار کرتے ہیں یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے لیے جگہ بنانی پڑے تو جگہ بنا دیتے ہیں۔
: یعنی صفیں برابر کرانے والوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا صف اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کے ساتھ کندھے نہیں بھڑاتے بلکہ نرم خوئی کا اظہار کرتے ہیں یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے لیے جگہ بنانی پڑے تو جگہ بنا دیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 672 سے ماخوذ ہے۔