حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بمعنى الإسناد والحديث ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 659
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يونس بن الحارث ضعفه الجمهور وقال في التقريب(7902) ’’ ضعيف ‘‘, وفي سماع عبد اللّٰه بن سعيد من المغيرة نظر : انظر ھامش اتحاف المھرة (13/ 421), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11509)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/254) (ضعیف) » (یونس بن الحارث ضعیف ہیں اور ابوعون کے والد عبیداللہ بن سعید ثقفی مجہول ہیں، نیز مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت منقطع ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 659]
659۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ چمڑا دباغت دینے "رنگنے" سے پاک ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے مصلیٰ بنانا یا اس کا لباس بنانا جائز ہے اور سجدے میں پیشانی کا براہ راست زمین یا مٹی پر ٹکانا ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 659 سے ماخوذ ہے۔