سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الصَّلاَةِ عَلَى الْحَصِيرِ باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بمعنى الإسناد والحديث ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔`
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 659]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 659]
659۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ چمڑا دباغت دینے "رنگنے" سے پاک ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے مصلیٰ بنانا یا اس کا لباس بنانا جائز ہے اور سجدے میں پیشانی کا براہ راست زمین یا مٹی پر ٹکانا ضروری نہیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ چمڑا دباغت دینے "رنگنے" سے پاک ہو جاتا ہے، لہٰذا اسے مصلیٰ بنانا یا اس کا لباس بنانا جائز ہے اور سجدے میں پیشانی کا براہ راست زمین یا مٹی پر ٹکانا ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 659 سے ماخوذ ہے۔