حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ، قَالَ : مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ ؟ قَالُوا : رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا ، أَوْ قَالَ : أَذًى ، وَقَالَ : إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا ، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے ؟ “ ، ان لوگوں نے کہا : ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے “ ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے : «قذرا» کہا ، یا : «أذى» کہا ، اور فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 650
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (766)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/20، 92)، سنن الدارمی/الصلاة 103 (1418)، (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے۔‏‏‏‏ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 650]
650۔ اردو حاشیہ:
➊ جوتے پہن کر یا اتار کر، نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے، اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے اور انہیں پاک کرنے کے لیے خشک زمیں پر رگڑ لینا ہی کافی ہے۔
➋ نمازی اکیلا ہو اور اپنے جوتوں کو اپنے پہلو میں رکھنا چاہتا ہو تو اپنی بائیں جانب رکھے، مگر جب صف میں ہو تو اپنے پاؤں کے درمیان میں رکھے۔
➌ نجاست آلود جوتے یا کپڑے میں نماز جائز نہیں۔ اثنائے نماز میں اسے دور کرنا ممکن ہو تو اسے دور کر دے، ورنہ نماز چھوڑ دے اور نجاست دور کرے۔
➍ لاعلمی میں جو نماز نجس کپڑے یا جوتے میں پڑھی جا چکی ہو تو وہ صحیح ہے، اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔
➎ جوتوں میں نماز تمام احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے، اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں۔
➏ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی خبریں جبریل امین کے ذریعے سے بتائی جاتی تھیں۔
➐ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع، افعال عبادت میں اسی طرح ضروری ہے جیسے کہ اقوال میں۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خصوصیت اور خوبی یہی ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی اتباع میں کوئی پس و پیش نہ کرتے تھے اور ہر مسلمان کو ایسے ہی ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 650 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ مبشر احمد ربانی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا ... [ابوداود 650]
سوال: جوتے پہن کر نماز ادا کرنا ٹھیک ہے اور کیا یہ واجب ہے؟

جواب: جوتے اگر پاک اور صاف ستھرے ہوں، ان کے نیچے گندگی نہ لگی ہو تو پھر ان میں نماز پڑھنا درست ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا جاء احدكم المسجد فلينظر، فإن راى فى نعليه قذرا او اذى فليمسحه وليصل فيهما [أبوداؤد، كتاب الصلوة: باب الصلاة فى النعل 650]

جب بھی تم میں سے کوئی آدمی مسجد کی طرف آئے تو وہ دیکھے اگر اس کے جوتوں میں کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو اسے صاف کرے اور ان میں نماز پڑھے۔

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالفوا اليهود فإنهم لا يصلون فى نعالهم ولا خفافهم [أبوداؤد، كتاب الصلوة: باب الصلاة فى النعل 652]

یہودیوں کی مخالفت کرو، وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔

یہ حکم وجوب کے لیے نہیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ننگے پاؤں بھی اور جوتوں میں بھی نماز پڑھتے تھے۔ [أبوداؤد، كتاب الصلوة: باب الصلاة فى النعل 653]
درج بالا اقتباس احکام و مسائل، حدیث/صفحہ نمبر: 99 سے ماخوذ ہے۔