سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الرَّجُلِ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ باب: آدمی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا ، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ` عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے ، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ : ” اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 647]
➊ مردوں کے لیے بالوں کا جوڑا بنانا بالخصوص نماز میں جائز نہیں، چاہیے کہ انہیں ویسے ہی لمبا چھوڑ دیا جائے اور سجدے کی حالت میں زمیں پر لگنے دیا جائے۔ دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ ’’مجھے حکم ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور بالوں کو نہ باندھوں اور کپڑے کو نہ سمیٹوں۔“ [صحيح بخاري، حديث: 812 و صحيح مسلم، حديث: 490]
➋ جن بزگوں کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے جوڑا بنایا ہوا تھا تو شاید انہیں یہ ارشاد نبوی معلوم نہ تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر میں پیچھے جوڑا بندھا ہوا تھا، تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے، جب عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سلام پھیر چکے تو ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: آپ کو میرے سر سے کیا مطلب تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1115]
➋ خلاف شرع کام ہوتا دیکھ کر موقع ہی پر تنبیہ کر دینی چاہیے، خواہ مخواہ یا بالکل سکوت نہیں کرنا چاہیے۔
➌ برائی کو ہاتھ سے مٹانے کی طاقت ہو تو اسے ہاتھ سے مٹا دینا چاہیے۔
➍ خبر واحد حجت ہے۔
وَرَأسُهُ مَعْقُوصٌ: اس کے سر پر بالوں کا جوڑا باندھا ہواتھا۔
عَقَصَ الشَّعْر کا معنی ہوتا ہے بالوں کی چوٹی بنانا یا گوندھنا* کہتے ہیں عَقَصَتِ الْمَرْأْةُ شَعْرَهَا، ع ورت نے اپنے بالوں کا جوڑا باندھا۔
فوائد ومسائل: ان احادیث میں سجدےکے لیے سات اعضاء کی تصریح آئی ہے ناک پیشانی میں داخل ہے اس سے علیحدہ نہیں ہے اور ان سب اعضاء کا زمین پر لگانا ضروری ہے احناف کا پاؤں کے بارے میں اختلاف ہے بعض پاؤں کے زمین پر لگانے کو فرض کہتے ہیں بعض سنت اور بعض مستحب امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ناک کا لگانا ضروری نہیں ہے اور صاحبین کے نزدیک ضروری ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک پیشانی کے ساتھ ناک کا بھی زمین پر لگانا ضروری ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی باقی آئمہ کے نزدیک ناک زمین پر لگانا سنت یا مستحب ہے۔
(صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِي أُصَلِّي)
کا تو معنی یہی ہے کہ ساتوں اعضاء زمین پر لگائے جائیں۔
بعض لوگ سجدے میں جاتے ہوئے اس کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے کپڑے اور بالوں کو خاک آلود ہونے سے بچائیں یہ بات چونکہ سجدے کی روح اور مقصد کے منافی ہے اس لیے نماز میں بالوں کا جوڑا باندھنے اور کپڑوں کو سمیٹنے سے منع فرمایا۔
عبداللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھ رہے تھے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نماز کی حالت میں ان کا جوڑا کھول دیا جس سے ثابت ہوا کہ کپڑے سمیٹ کر یا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے یہ معنی نہیں ہے کہ یہ کام اثنائے نماز میں نہ کرے اگر نماز سے پہلے کر لے اور بعد میں نماز شروع کر دے تو پھر درست ہے۔