حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : " أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن جریج کہتے ہیں کہ` میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عطاء کا یہ فعل ( سدل کرنا ) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: «الحجة فيما روى، لا فيما رأى» نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہو گیا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 644]
644۔ اردو حاشیہ:
پہلی سند حسن اور دوسری (روایت عسل) صحیح ہے۔ (شیخ البانی رحمہ اللہ ) اور تیسری روایت تابعی کا عمل اگرچہ سنداًً صحیح ہے مگر مذکورہ بالاحدیث کے برخلاف ہے اور کسی راوی کا اپنی روایت کے خلاف عمل کرنا اس روایت کے ضعیف ہونے کے دلیل نہیں ہے اور حق یہ ہے کہ نماز میں کپڑے کو لپیٹے بغیر سر پر کندھوں پر ویسے ہی ڈال لینا، یا منہ کو بند کر لینا جائز نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 644 سے ماخوذ ہے۔