حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا ، فَقَالَتْ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ ، وَقَالَ لِي : " شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا ، فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا : ” اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو ، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے ، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے ، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 642
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن سيرين لم يسمع من أم المؤمنين عائشة رضي اللّٰه عنھا (المراسيل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/96، 238) (ضعیف) » (ابن سیرین اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔`
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 642]
642۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم جوان کے لیے پردے کی تاکید ثابت ہے۔ اس لیے کہ بچیاں جب جوان ہو جائیں تو ان سے پردے کا اہتمام کروایا جائے۔ یہ خود بچیوں اور ان کے سرپرستوں کا لازمی فریضہ ہے۔ قرآن کی آیات اور دیگر صحیح احادیث اس پر صریح دلالت کرتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 642 سے ماخوذ ہے۔