حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے ، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو ۔

وضاحت:
عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کو ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پورا ہونا چاہیے۔ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 636
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1987) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 636]
636۔ اردو حاشیہ:
➊ عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کا ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پور ا ہونا چاہیے۔
➋ اس حدیث اور دیگر احادیث میں مردوں کے لیے نماز میں ’’سر ڈھانپنے کا کوئی حکم یا اس کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے «يا بني آدم خذوا زينتكم عندكل مسجد» [الأعراف: 31]
’’اے لوگو! ہر مسجد میں آتے وقت (یا ہر نماز کے وقت) اپنا بناؤ کر لیا کرو۔ کا عام حکم دیا ہے۔ یعنی نماز اور طواف میں ستر عورہ فرض ہے۔ مرد کے لیے کمر سے گھٹنے تک اور عورت کے لیے چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ سارا بدن۔ اور باریک کپڑا جس سے بدن یا بال نظر آئیں معتبر نہیں۔ [موضح القرآن]
بہرحال اثنائے عبادت میں مباح زینت اختیار کرنا مطلو ب ہے اور اتباع ہوائے نفس حرام، اور غیر نماز میں ننگے سر رہنے کو عادت بنا لینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہ اللہ عنہم کے معمولات کے خلاف ہے۔
➌ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 636 سے ماخوذ ہے۔