حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي ، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ ، قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا جَابِرُ ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ( رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی ، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی ، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے ، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا ۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا ، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے ، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ( کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ) ، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا ، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” جابر ! “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! فرمائیے ، حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو ، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (3008)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف: 2360)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (1788)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، مسند احمد (3/351) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 361

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 361 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
361. حضرت سعید بن حارث سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق مسئلہ دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھا، رات کو کسی ضروری کام کے لیے آپ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت میرے اوپر ایک ہی کپڑا تھا۔ میں نے اسے اپنے بدن پر لپیٹا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’اے جابر! رات کے وقت کیسے آئے؟‘‘ میں نے آپ کی خدمت میں اپنی ضرورت پیش کی۔ جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’یہ کپڑے کا لپیٹنا کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: میرے پاس ایک ہی کپڑا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’ کپڑا اگر کشادہ ہو تو اسے لپیٹ لیا کرو اور اگر تنگ ہو تو اسے بطور تہ بند پہنو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:361]
حدیث حاشیہ:
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ اور حضرت جبار بن صخر ؓ کو غزوہ بواط کے موقع پر اس غرض سے روانہ کیا تھا کہ وہ آگے چل کر منزل پر پانی وغیرہ کا انتطام کریں۔
جیساکہ صحیح مسلم میں صراحت ہے۔
علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں: چونکہ حضرت جابر ؓ نے کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لیا تھا کہ اس سے ہاتھ وغیرہ بسہولت باہر نہیں نکلتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا۔
(إعلام الحدیث: 253/1)
شاید انھوں نے اشتمال صماء کی وجہ سے یہ توجیہ کی ہے، بصورت دیگرصحیح مسلم میں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ کپڑا انتہائی تنگ تھا، انھوں نے اسے اس طرح پہنا کہ اس کے دونوں کناروں کو ٹھوڑی کے نیچے دباکر آگے کو جھکے ہوئے تھے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے جب انھیں بایں حالت دیکھاتو فرمایا کہ کناروں کو الٹ کر پہننا اس وقت ہے جب کپڑا کشادہ ہوتنگ ہونے کی صورت میں اسے بطورازار پہننا ہی کافی ہے، کیونکہ مقصد ستر کو چھپانا ہے۔
(فتح الباری: 612/1)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 361 سے ماخوذ ہے۔