سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا يَتَّزِرُ بِهِ باب: جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي ، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ ، قَالَ : وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا جَابِرُ ، قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ " .
´عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ` ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا ( رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی ، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی ، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے ، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا ۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا ، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے ، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا ( کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ) ، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا ، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” جابر ! “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! فرمائیے ، حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو ، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر ؓ اور حضرت جبار بن صخر ؓ کو غزوہ بواط کے موقع پر اس غرض سے روانہ کیا تھا کہ وہ آگے چل کر منزل پر پانی وغیرہ کا انتطام کریں۔
جیساکہ صحیح مسلم میں صراحت ہے۔
علامہ خطابی ؒ فرماتے ہیں: چونکہ حضرت جابر ؓ نے کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لیا تھا کہ اس سے ہاتھ وغیرہ بسہولت باہر نہیں نکلتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا۔
(إعلام الحدیث: 253/1)
شاید انھوں نے اشتمال صماء کی وجہ سے یہ توجیہ کی ہے، بصورت دیگرصحیح مسلم میں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ کپڑا انتہائی تنگ تھا، انھوں نے اسے اس طرح پہنا کہ اس کے دونوں کناروں کو ٹھوڑی کے نیچے دباکر آگے کو جھکے ہوئے تھے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے جب انھیں بایں حالت دیکھاتو فرمایا کہ کناروں کو الٹ کر پہننا اس وقت ہے جب کپڑا کشادہ ہوتنگ ہونے کی صورت میں اسے بطورازار پہننا ہی کافی ہے، کیونکہ مقصد ستر کو چھپانا ہے۔
(فتح الباری: 612/1)