سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَى غَيْرِهِ باب: آدمی ایسے کپڑے میں نماز پڑھے جس کا کچھ حصہ دوسرے شخص پر ہو۔
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا ۔
وضاحت:
ثابت ہوا کہ اس طرح جائز ہے کہ ایک بڑی چادر یا کمبل وغیرہ کا کچھ حصہ نمازی پر ہو اور کچھ حصہ اس کی بیوی پر، خواہ وہ ایام سے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل دیکھئیے (سنن ابوداود، حدیث ۳۶۹، ۳۷۰)
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی ایسے کپڑے میں نماز پڑھے جس کا کچھ حصہ دوسرے شخص پر ہو۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 631]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 631]
631۔ اردو حاشیہ:
جائز ہے کہ ایک بڑی چادر یا کمبل وغیرہ کا کچھ حصہ نمازی پر ہو اور کچھ حصہ اس کی بیوی پر، خواہ وہ ایام سے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سنن أبوداؤد، حديث: 369، 370]
جائز ہے کہ ایک بڑی چادر یا کمبل وغیرہ کا کچھ حصہ نمازی پر ہو اور کچھ حصہ اس کی بیوی پر، خواہ وہ ایام سے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سنن أبوداؤد، حديث: 369، 370]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 631 سے ماخوذ ہے۔