حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ طَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ فَاشْتَمَلَ بِهِمَا ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا ، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کر لیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا ، پھر کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی درست ہے؟`
طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کر لیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: "کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 629]
629۔ اردو حاشیہ:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دو کپڑے میسر نہ ہونے کی صورت میں ایک چادر میں نماز جائز ہے اور حکم ہے کہ اس کے پلّو کندھوں پر بھی آئیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 629 سے ماخوذ ہے۔