حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی مسلمانوں کو ) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا ۔

وضاحت:
چونکہ اس دور میں صحابیات بھی نماز میں حاضر ہوا کرتی تھیں اور وہ پچھلی صفوں میں ہوتی تھیں۔ لہذا انہیں (مردوں کو) ہدایت فرمائی کہ کچھ دیر انتظار کر لیا کریں تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے مسجد سے نکل جائیں۔ نیز راستے میں بھی مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو۔ نیز یہ بھی کہ سلام کے بعد مسنون اذکار سے غفلت نہ کریں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 624
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م دون الحض , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (954), ورواه أحمد (3/240 وسنده صحيح) والبيھقي (2/192)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1581)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن النسائی/السھو 102 (1364)، مسند احمد (3/102، 126، 154، 240)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1356) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام سے پہلے اٹھ کر جانے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی مسلمانوں کو) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 624]
624۔ اردو حاشیہ:
سلام کے بعد اگرچہ اُٹھنا جائز ہے مگر چونکہ اس دور میں صحابیات بھی نماز میں حاضر ہوا کرتی تھیں اور وہ پچھلی صفوں میں ہو تی تھیں۔ لہٰذا انہیں ہدایت فرمائی تھی کہ کچھ دیر انتظار کر لیا کریں تاکہ وہ مردوں سے پہلے مسجد سے نکل جائیں۔ نیز راستے میں بھی مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو۔ نیز یہ بھی ہے کہ سلام کے بعد مسنون اذکار سے غفلت نہ کریں۔ شیخ البانی  رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس روایت میں ترغیب نماز والا حصہ ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 624 سے ماخوذ ہے۔