سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ ، فَقَالَ : رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا ، قَالَ ثَابِتٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ " .
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ( کھجور کو ) اس کی تھیلی میں اور اسے ( گھی کو ) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) اور ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں ۔ ثابت کہتے ہیں : میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف چٹائی پر کھڑا کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں"، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) اور ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف چٹائی پر کھڑا کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 608]
➊ بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لئے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا مشاہدہ کر لیں۔ (نووی)
➋ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی، امام بایئں جانب اور مقتدی اس سے دایئں جانب کھڑا ہو گا اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی صف علیحدہ ہو گی۔
اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر کچھ اوپر اسی برس کی تھی، 93ھ کے قریب آپ کا انتقال ہوا۔
ایک سو سال کے قریب ان کی عمر ہوئی۔
یہ سب آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے خاص اپنی صلب کے 125بچے دفن کئے پھر دیگر لواحقین کا اندازہ کرنا چاہئے۔
اس حدیث سے مقصد باب یوں ثابت ہوا کہ آپ ﷺ ام سلیم ؓ کے گھر روزہ کی حالت میں تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے ان کے ہاں کھانا واپس فرما دیا۔
اور روزہ نہیں توڑا۔
ثابت ہوا کہ کوئی شخص ایسا بھی کرے تو جائز درست بلکہ سنت نبوی کے مطابق ہے۔
یہ سب حالات پر منحصر ہے۔
بعض مواقع ایسے بھی آسکتے ہیں کہ وہاں روزہ کھول دینا جائز ہے۔
بعض ایسے کہ رکھنا بھی جائز ہے۔
یہ ہر شخص کے خود دل میں فیصلہ کرنے اور حالت کو سمجھنے کی باتیں ہیں۔
إنما الأعمالُ بالنیاتِ