حدیث نمبر: 606
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى ، أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِر ، قَالَ : اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (413)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الصلاة 19 (213)، سنن النسائی/الإفتتاح 207 (1201)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 145 (1240)، (تحفة الأشراف: 2907)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 606]
606۔ اردو حاشیہ:
➊ امام بیمار ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھا سکتا ہے لیکن مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں گے۔
➋ امام کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچانے کے لئے مکبر اس کی مدد کر سکتے ہیں۔ اور آج کل آلہ مکبر الصوت (لاؤڈ سپیکر) یہ ضروریات پوری کر دیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 606 سے ماخوذ ہے۔