حدیث نمبر: 597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ أَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ عَلَى دُكَّانٍ ، فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ بِقَمِيصِهِ فَجَبَذَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ، قَالَ : " أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْهَوْنَ عَنْ ذَلِكَ ؟ " ، قَالَ : بَلَى ، قَدْ ذَكَرْتُ حِينَ مَدَدْتَنِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہمام کہتے ہیں کہ` حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن ( کوفہ کے پاس ایک شہر ہے ) میں ایک چبوترہ ( اونچی جگہ ) پر کھڑے ہو کر لوگوں کی امامت کی ( اور لوگ نیچے تھے ) ، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا کرتا پکڑ کر انہیں ( نیچے ) گھسیٹ لیا ، جب حذیفہ نماز سے فارغ ہوئے تو ابومسعود نے ان سے کہا : کیا آپ کو معلوم نہیں کہ اس بات سے لوگوں کو منع کیا جاتا تھا ، حذیفہ نے کہا : ہاں مجھے بھی اس وقت یاد آیا جب آپ نے مجھے پکڑ کر کھینچا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأ عمش عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3388) (صحیح) »