حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا ، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے ، حالانکہ وہ نابینا تھے ۔

وضاحت:
نابینے شخص کی امامت بلا کراہت جائز ہے بشرطیکہ اس میں صلاحیت ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1121), وله شاھد عند ابن حبان (370 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/192) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2931 | بلوغ المرام: 338 | مسند الحميدي: 1236

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نابینا کی امامت کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 595]
595۔ اردو حاشیہ:
نابینے شخص کی امامت بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ اس میں صلاحیت ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 595 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2931 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اندھے کو حاکم بنانا درست ہے۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دو مرتبہ (جب جہاد کو جانے لگے) اپنا قائم مقام (خلیفہ) بنایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2931]
فوائد ومسائل:
اسلام کے سوا باقی معاشرے بہت عرصہ تک نابیناؤں اور خصوصی افراد کے ساتھ امتیازی برتائو کرتے رہے۔
ان کو اہم ذمہ داریوں پر فائز کرنے کا تو تصور تک نہیں تھا۔
اسلام نے نہ صرف ان کے حقوق باقی انسانوں کے برابر کئے بلکہ ان کو انتہائی زمہ داریاں دینے کا بھی آغاز کیا۔
ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کی ایک اہم ترین ذمہ داری یعنی اذان دینا تو ہمہ وقت حاصل تھی۔
حالانکہ وہ اذان کے صحیح وقت کے تعین کےلئے دوسروں کی مدد کے محتاج تھے۔
اذان صبح کے وقت لوگ ان کو بتاتے تھے کہ (أصحبت أصبحت) آپ نے صبح کر دی ہے، صبح کردی ہے۔
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں دوبارہ مدینے کا قائم مقام گورنر بھی بنایا۔
اس معاملے میں بھی اپنی ذمہ داریوں کی ادایئگی کےلئے یقینا انھیں بروقت دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہوگی۔
اور دیکھا جائے تو ہر حاکم کو کسی نہ کسی صورت میں دوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
کسی کو ایک صورت میں کسی کو دوسری صورت میں نابینا آدمی اگر علم وعمل تقویٰ اور دانائی کے اعلیٰ معیار پر پورا اترتا ہو تو اسے حکومتی منصب دے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ ایسا آدمی فیصلے کرنے کا اہل نہیں ہوسکتا۔
کہ وہ افراد کے پہچاننے اور شخصیات کی تعین وغیرہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔
رسول اللہ کی حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔
اگر نابینا صحیح اور بروقت فیصلہ کرنے اور دوسروں سے کام لینے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے مناسب ذمہ داری دینے میں کوئی قباحت نہیں، بلکہ اس قسم کے خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان سے ان کی اہلیت وصلاحیت کے مطابق کام لینا معاشرے کےلئے بہتر ہی ہے۔
مسلمان معاشروں میں ایسے افراد علم کی خدمت میں ہمیشہ ممتاز رہے۔
البتہ غیر اسلامی معاشروں کے ساتھ اختلاط کے سبب ایسے افراد کے بارے میں نامناسب رویہ شروع ہوا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2931 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 338 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نماز باجماعت اور امامت کے مسائل کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔ وہ لوگوں کی امامت کراتے تھے جب کہ وہ نابینا تھے۔
اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسی طرح کی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 338»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب أمامة الأعمي، حديث:595، وأحمد:3 /132، وحديث عائشة أخرجه ابن حبان(الإحسان):3 /287.»
تشریح: 1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کو اپنا نائب مقرر کرنا جائز ہے جو لوگوں کو نماز پڑھائے۔
2.دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نابینے کی امامت درست اور جائز ہے۔
3. تیسرا یہ بھی معلوم ہوا کہ نابینا دوسروں کی بہ نسبت علم شریعت کا زیادہ عالم ہو سکتا ہے۔
4. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل کی موجودگی میں دوسرا بھی نائب مقرر کیا جا سکتا ہے۔
5. یہ نابینے صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے‘ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عدم موجودگی میں کئی دفعہ اپنا نائب مقرر فرمایا اور غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو انتظامی امور وغیرہ کے لیے اپنا نائب مقرر فرمایا اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نماز کی امامت کے لیے مقرر فرمایا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 338 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1236 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1236- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش کے تمام تیر نکال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھے اور وہ اپنے گھٹنوں کے بل جھک گئے اور یہ کہنے لگے: میرا وجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے ہے اور میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لشکر میں ابوطلحہ کی آواز ایک جماعت سے زیادہ بہتر ہے۔‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ایک جنگ میں مسلمانوں کا جھنڈا ان کے پاس تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1236]
فائدہ:
اس حدیث میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی جرٱت و دلیری کا ذکر ہے کہ وہ کس طرح اپنی جان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر پروانہیں کرتے، یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک جھنڈا بھی تھا۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1234 سے ماخوذ ہے۔