سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں ، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 590]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 590]
590۔ اردو حاشیہ:
حافظ اور عالم اور وجیہ لوگوں کا امام ہونا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مسئلہ میں انتہائی موثر ہوتا ہے، لوگ ان کی بات بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔
حافظ اور عالم اور وجیہ لوگوں کا امام ہونا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مسئلہ میں انتہائی موثر ہوتا ہے، لوگ ان کی بات بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 590 سے ماخوذ ہے۔