حدیث نمبر: 590
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں ، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 590
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (726), حسين بن عيسي الحنفي : ضعيف (تقريب:1341) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 55), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (726)، (تحفة الأشراف: 6039) (ضعیف) » (اس کے راوی حسین حنفی ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 726

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 590]
590۔ اردو حاشیہ:
حافظ اور عالم اور وجیہ لوگوں کا امام ہونا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مسئلہ میں انتہائی موثر ہوتا ہے، لوگ ان کی بات بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 590 سے ماخوذ ہے۔