سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ . ح وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " ، زَادَ الْهَيْثَمُ : وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین ( مدینہ ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے ، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا ۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے ۔
وضاحت:
۱؎: مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 588]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ۱؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 588]
588۔ اردو حاشیہ:
یہ حفظ قرآن کی برکت تھی کہ قریش کے اشراف کے مقابلے میں ایک نوعمر غلام ان کا امام تھا۔
یہ حفظ قرآن کی برکت تھی کہ قریش کے اشراف کے مقابلے میں ایک نوعمر غلام ان کا امام تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 588 سے ماخوذ ہے۔