سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ باب: امامت کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 583
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ وَلَا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : «ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه» کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے «أقدمهم قرائة» ( لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو ) کی روایت کی ہے ۔