حدیث نمبر: 577
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا ، فَقَالَ : أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ ؟ قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ أَسْلَمْتُ ، قَالَ : فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟ قَالَ : إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي ، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ ، فَقَالَ : إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یزید بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں ( مسجد ) آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے ، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے ( یزید بن عامر کو ) بیٹھے ہوئے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یزید ! کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! میں اسلام لا چکا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے ؟ “ ، میں نے کہا : میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے ، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو ، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو ، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 577
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نوح بن صعصعة : مجهول الحال،لم يوثقه غير ابن حبان و ضعفه الإمام الدار قطني،وقال في التقريب: ’’مستور‘‘ (7208), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود،(تحفة الأشراف: 11831) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی نوح بن صعصعة مجہول ہیں)