سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 555
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ ، كَانَ كَقِيَامِ نِصْفِ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ، كَانَ كَقِيَامِ لَيْلَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عشاء جماعت سے پڑھی ، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا ، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں ، اس نے گویا پوری رات قیام کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 555]
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 555]
555۔ اردو حاشیہ:
اور جو شخص یہ نمازیں باجماعت پڑھنے کے بعد رات کو قیام بھی کرے تو اس کا مقام بہت ہی اونچا ہو گا۔
اور جو شخص یہ نمازیں باجماعت پڑھنے کے بعد رات کو قیام بھی کرے تو اس کا مقام بہت ہی اونچا ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 555 سے ماخوذ ہے۔