حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذَا رَآهُمْ قَلِيلًا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سالم ابوالنضر کہتے ہیں` جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ ( مسجد میں ) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے ، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 545
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج عنعن, و السند مرسل, وانظر الحديث الآتي (546), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف) » (یہ روایت مرسل ہے، سالم ابوالنضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔`
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 545]
545۔ اردو حاشیہ:
ملحوظہ۔
حدیث مرسل ہے، یعنی تابعی (ابوالحضر) بلاواسطہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ شیخ البانی کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ صحیح روایات کی رو سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار اذان کے بعد کرتے تھے نہ کہ تکبیر کے بعد۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 545 سے ماخوذ ہے۔