سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب فِي الأَذَانِ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ باب: وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " لَا تُؤَذِّنْ حَتَّى يَسْتَبِينَ لَكَ الْفَجْرُ هَكَذَا : وَمَدَّ يَدَيْهِ عَرْضًا " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يُدْرِكْ بِلَالًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´وقت سے پہلے اذان دیدے تو کیا کرے؟`
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 534]
بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اذان نہ دیا کرو جب تک کہ فجر تمہارے لیے اس طرح واضح نہ ہو جائے“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چوڑائی میں پھیلائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد نے بلال رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 534]
534۔ اردو حاشیہ:
➊ فجر دو طرح کی ہوتی ہے پہلی کو ”فجر کاذب“ اور دوسری کو ”فجر صادق“ کہتے ہیں۔ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں ہے۔ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو قسمیں ہیں، ایک فجر جس میں کھانا حرام اور نماز حلال ہوتی ہے (نماز فجر)۔ اور دوسری وہ ہے جس میں نماز (نماز فجر) حرام اور کھانا (سحری کا) حلال ہوتا ہے۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ وہ (فجر صادق) جس میں کھانا حرام ہوتا ہے افق میں طویل ہوتی ہے۔ اور دوسری (فجر کاذب) یہ بھیڑیے کی دم کی طرح فضا میں بلند ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خذيمة، حديث 356۔ مستدرك حا كم: 191/1]
➋ نماز کا وقت ہونے سے پہلے اذان صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر غلطی سے تھوڑا سا فرق ہو تو اذان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن وقفہ اگر بہت زیادہ ہو تو اذان دہرائی جائے۔ اور پہلی کے متلعق اعلان کر دیا جائے کہ یہ غلطی سے ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ نماز فجر کی اذان کے بارے میں کچھ اصحاب الحدیث کا میلان یہ ہے کہ یہ فجر کاذب میں کہی جائے، تاکہ صبح صادق ہوتے ہی نماز کھڑی کی جا سکے اور وہ اندھیرے میں پڑھی جائے۔ ان کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بلال کی اذان سحری کھانے سے ہرگز نہ روکے۔ بے شک وہ رات میں اذان کہتے ہیں۔ تاکہ تمہارا قیام کرنے والا متنبہ ہو جائے اور سونے والا جاگ جائے۔ [صحيح بخاري۔ الأذان باب الأذان قبل الفجر، حديث: 621]
اس کے قائل امام مالک، اوزاعی۔ شافعی، احمد، اسحاق ہیں۔ [خطابي]
مگر بخار ی و مسلم کی یہ روایت حقیقت کو نکھارتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات میں اذان کہتے ہیں، تو کھاؤ حتیٰ کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ اور (یہ نابینا تھے) اور اس وقت تک اذان نہ کہتے تھے، جب تک انہیں بتا نہ دیا جاتا کہ صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ [صحيح بخاري، حديث: 617۔ صحيح مسلم: حديث: 380۔ 381]
مقصد یہ ہے طلوع ہونے ہی پر فجر کی اذان کہنا راحج ہے۔
➊ فجر دو طرح کی ہوتی ہے پہلی کو ”فجر کاذب“ اور دوسری کو ”فجر صادق“ کہتے ہیں۔ صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں ہے۔ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کی دو قسمیں ہیں، ایک فجر جس میں کھانا حرام اور نماز حلال ہوتی ہے (نماز فجر)۔ اور دوسری وہ ہے جس میں نماز (نماز فجر) حرام اور کھانا (سحری کا) حلال ہوتا ہے۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ وہ (فجر صادق) جس میں کھانا حرام ہوتا ہے افق میں طویل ہوتی ہے۔ اور دوسری (فجر کاذب) یہ بھیڑیے کی دم کی طرح فضا میں بلند ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خذيمة، حديث 356۔ مستدرك حا كم: 191/1]
➋ نماز کا وقت ہونے سے پہلے اذان صحیح نہیں ہے۔ ہاں اگر غلطی سے تھوڑا سا فرق ہو تو اذان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن وقفہ اگر بہت زیادہ ہو تو اذان دہرائی جائے۔ اور پہلی کے متلعق اعلان کر دیا جائے کہ یہ غلطی سے ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ نماز فجر کی اذان کے بارے میں کچھ اصحاب الحدیث کا میلان یہ ہے کہ یہ فجر کاذب میں کہی جائے، تاکہ صبح صادق ہوتے ہی نماز کھڑی کی جا سکے اور وہ اندھیرے میں پڑھی جائے۔ ان کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بلال کی اذان سحری کھانے سے ہرگز نہ روکے۔ بے شک وہ رات میں اذان کہتے ہیں۔ تاکہ تمہارا قیام کرنے والا متنبہ ہو جائے اور سونے والا جاگ جائے۔ [صحيح بخاري۔ الأذان باب الأذان قبل الفجر، حديث: 621]
اس کے قائل امام مالک، اوزاعی۔ شافعی، احمد، اسحاق ہیں۔ [خطابي]
مگر بخار ی و مسلم کی یہ روایت حقیقت کو نکھارتی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رات میں اذان کہتے ہیں، تو کھاؤ حتیٰ کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ اور (یہ نابینا تھے) اور اس وقت تک اذان نہ کہتے تھے، جب تک انہیں بتا نہ دیا جاتا کہ صبح ہو گئی، صبح ہو گئی۔ [صحيح بخاري، حديث: 617۔ صحيح مسلم: حديث: 380۔ 381]
مقصد یہ ہے طلوع ہونے ہی پر فجر کی اذان کہنا راحج ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 534 سے ماخوذ ہے۔