حدیث نمبر: 5272
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي الْيَمَانِ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , " أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ : اسْتَأْخِرْنَ , فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ , عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ , فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْتَصِقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے ، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا : ” تم پیچھے ہٹ جاؤ ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں ، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے “ پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں ، یہاں تک کہ ان کے کپڑے ( دوپٹے وغیرہ ) دیوار میں پھنس جاتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5272
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, شداد بن أبي عمرو : مجهول (تق: 2757), وأبوه مقبول (تق: 8270) أي مجهول الحال وللحديث شاهد ضعيف عند ابن حبان (الموارد: 1969), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 183
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11192) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورتیں مردوں کے ساتھ راستہ میں کس طرح چلیں؟`
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: " تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے " پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے (دوپٹے وغیرہ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5272]
فوائد ومسائل:

عورتوں کے لئے ادب یہ ہے کہ ہمیشہ مردوں کے پیچھے چلا کریں۔

2: راستے اور گلی میں چلتے ہوئے عین درمیان میں چلنے کی بجائے اس کی ایک جانب ہو کر چلا کریں یہ کیفیت ان کے باحیا اور باوقارہونے کی علامت ہے اور اس میں ان کے لئے امن بھی ہے کہ کوئی اوباش ان کو پریشان نہیں کرسکتا۔

3: بعض حضرات نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
(الصحیحة‘حدیث:721)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5272 سے ماخوذ ہے۔