سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قَتْلِ الأَوْزَاغِ باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5262
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ , وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے ، اور اسے «فويسق» ( چھوٹا فاسق ) کہا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2238 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عامر بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس کو فویسق (چھوٹا فاسق) کا نام دیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5844]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: فسق کا معنی نکلنا ہے اور یہ موذی اور نقصان دہ ہونے کے سبب دوسرے جانداروں کی طبیعت و مزاج سے باہر ہے، اس لیے آپﷺ نے حرم میں قتل کرنے کی اجازت ملنے والے جانداروں کو فاسق کا نام دیا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2238 سے ماخوذ ہے۔