سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5261
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قَضِيبُ فِضَّةٍ " , قَالَ أبو داود : فَقَالَ لِي : إِنْسَانٌ الْجَانُّ لَا يَنْعَرِجُ فِي مِشْيَتِهِ , فَإِذَا كَانَ هَذَا صَحِيحًا كَانَتْ عَلَامَةً فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا : جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے ، إن شاء اللہ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سانپوں کو مارنے کا بیان۔`
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5261]
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح (یعنی سفید سانپ کو نہ مارو)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5261]
فوائد ومسائل:
روایت موقوف ہے اور انتہائی سفید چمکدارسانپ شاید مدینہ منورہ سے مخصوص ہوں اور ان کی چال سےاندازہ لگا سکتا ہے کہ جن ہے یا سانپ؟
روایت موقوف ہے اور انتہائی سفید چمکدارسانپ شاید مدینہ منورہ سے مخصوص ہوں اور ان کی چال سےاندازہ لگا سکتا ہے کہ جن ہے یا سانپ؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5261 سے ماخوذ ہے۔