حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ ، قَالَ : وَأَنَا وَأَنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو : «أشهد أن لا إله إلا الله ، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے : ” اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) اور میں بھی ( اس کا گواہ ہوں ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصلاة / حدیث: 526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (677), وأخرجه البيھقي (1/409) من حديث أبي داود به وسنده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17122) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی جب مؤذن کی آواز سنے تو کیا کہے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: «أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله» کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 526]
526۔ اردو حاشیہ:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم باوجود یہ کہ رسالت کے جلیل القدر منصب پر فائز تھے۔ اللہ کی توحید اور اپنے رسول ہونے کے اولین مومن و مصدق تھے۔ قرآن مجید میں ہے: «آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ» [بقره 285]
ایمان لائے رسول اس سب پر جو ان پر ان کے رب کی طرف سے اتارا گیا اور مومنین بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 526 سے ماخوذ ہے۔